خون میں شوگر کی کمی کی علامات، وجوہات کیاہیں؟بچاؤ اور علاج کیسے ممکن ہے؟
خون میں شوگر کی کمی کسے کہتے ہیں؟
یہ عام بات ہے کہ پورے دن میں خون میں گلوکوز / شکر کی سطح مختلف یعنی نارمل سے زیادہ یا کم ہوسکتی ہے۔جس کا انحصارمتعدد عوامل پر ہوتا ہے۔لیکن اگر شوگر کی سطح صحت مند حد سے نیچے چلی جائے اور اس کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔
خون میں گلوکوز کی کمی اس وقت واقع ہوتی ہے جب آپ کے خون میں گلوکوز کی سطح اتنی کم ہو جاتی ہے کہ آپ کو انہیں اپنے نارمل حد میں واپس لانے کے لیے علاج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب آپ کے خون میں گلوکوز 70 ملی گرام/ڈیسی لیٹر سے کم ہو۔
خون میں شوگر کی کمی کی کیا علامات ہیں؟
خون میں گلوکوز کی کمی کے ہونے کا ردعمل ہر انسان کا مختلف ہوتا ہے۔ نیچے دی گئی علامات کو غور سے پڑھیں اور خود کا مشاہدہ کریں کہ ان علامات میں سے آپ کو کوئی علامت تو لاحق نہیں؟ اگرآپ خود میں کوئی علامات محسوس کر رہے ہیں تو فوری ہمارے مستند غذائی ماہر سے مشورہ کریں۔

- تھکاوٹ
- دل کی دھڑکن کا تیز ہونا
- پورے جسم میں درد رہنا
- ٹھنڈے پسینےآنا
- بولنے میں دشواری
- سینےمیں درد رہنا
- نظر کا دندھلا پڑنا
- کمزوری / تھکاوٹ محسوس کرنا
- شدید بھوک لگنا
- نیند / غنودگی ہونا
اگر ہمارا جسم ایک لمبے عرصے کے لیے گلوکوز کی کمی کا شکار رہے گا تو اس کی وجہ سے گلوکوز کا دماغ تک پہنچنا ناممکن ہو جائے گا جو دورے، کوما یا بعض اوقات موت کا بھی سبب بن سکتا ہے۔
خون میں شوگر کی کمی کی کیا وجوہات ہیں؟
- انسولین کی زیادتی / انسولین کا جلد میں لگانے کی بجائے سیدھا مسلز میں لگانا
- کھانے میں انسولین کی نسبت، نشاستہ کی مقدار کم ہونا
- کھانے میں زیادہ فائبر والے نشاستہ دار کھانے
- جسمانی سرگرمیوں/ ورزش کا حد سے زیادہ ہونا
- شوگر کو کم کرنے والی ادویات
- شراب کا زیادہ استعمال
- گردوں کی بیماری، دل کی بیماری، ہارمونز کی مقدار کا تناسب خراب ہونا
- غیر متوازن خوراک کا استعمال
خون میں شوگر کے تناسب کو دیکھنے کےلیے کب کب ٹیسٹ کروانا ضروری ہے؟
- کھانے سے پہلے / کھانے کے بعد
- ورزش کرنے سے پہلے اور بعد (خاص طور پہ جب ورزش کا دورانیہ اور شدت زیادہ ہو)
- انسولین کے معمول میں تبدیلی کے بعد، سفر کے بعد، مختلف نوعیت کے کام کرنے کے بعد

خون میں شوگر کی کمی کا علاج کیسے ممکن ہے؟
خون میں شوگر کی مقدار میں کمی کے دوران 15 – 15 اصول لاگو کیا جاتا ہے جو خون میں شوگر کے تناسب کو ٹھیک کرنے میں مدد دیتا ہے۔جب خون میں شوگر کی مقدار 70 ملی گرام/ڈیسی لیٹر سے کم ہوجائے تو مندرجہ ذیل ہدایات پر عمل کریں۔
فورری طور پر بالغ مریضوں کوایسی خوراک کھلائیں جس میں پندرہ گرام شوگر موجود ہو مثلا گلوکوز کی چار گولیاں، گلوکوز جیلی، 120 سے 180 ملی لیٹر تازہ پھلوں کا جوس یاڈبے والا جوس، ایک کھانےکا چمچ جام، چینی، شہد، 1 کپ انرجی ڈرنک یا 3 کینڈی10 سے 15 منٹ کا انتظار کرنے کے بعد شوگر کی مقدار کو دوبارہ چیک کریں۔اگر شوگر کی مقدار 70 ملی گرام / ڈیسی لیٹر سے کم ہو تو مزید 10 سے 15 گرام شوگر والی خوراک کھلائیں
وقفے وقفے سے شوگر کی مقدار چیک کرتےرہیں اور کھانے کے عمل کو دہراتے رہیں جب تک خون میں شوگر کی مقدار تناسب میں نہ آجاۓ
اگر مریض کھانے سے قاصر ہو تو اس کی جلد یا بازو کے مسام میں گلوکوز کا ٹیکہ لگائیں۔
گلوکوز کھلاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ عمر کے لحاظ سے گلوکوز کھلانے کی مقدار کم یا زیادہ ہو سکتی ہے جیسے چھوٹے بچوں کو خون میں شوگر کی کم سطح کو ٹھیک کرنے کے لیے عام طور پر 15 گرام سے کم گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے: ایک سال تک کی عمر کے بچوں کو 6 گرام، 1 سے 3 سال کی عمر کے بچوں کو 8 گرام اور 3 سے 10 سال کے بچوں کو 10 گرام کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اگر مریض انسولین کا استعمال کر رہا ہو تو درج ذیل باتوں کا خیال رکھیں؟
- انسولین ڈاکٹر کے بتائے ہوئے وقت پر لگائیں
- انسولین ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر تبدیل،کم یا زیادہ نہ لگائیں
- ورزش کے دوران اپنے ساتھ میٹھی کھانے کی چیز ضرور رکھیں جیسا کہ چاکلیٹ
- کھانا ہمیشہ مقررہ وقت پر کھائیں ۔کھانا ہرگز نہ چھوڑیں

ہمارے مستند غذائی ماہرین سے مشورے کے لیے ابھی اپائنٹمنٹ بک کریں۔ ہمارے غذائی ماہرین بیماری کے مطابق کھانے میں تبدیلیاں اور انتخاب کرتے ہیں جو بیماری کو مزید بڑھنے سے روکتی ہیں۔ اپائنٹمنٹ بک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں یا واٹس ایپ نمبر 03041208116 پر رابطہ کریں
No Comments